نئی دہلی 23/ڈسمبر (ایس او نیوز/ایجنسی) ہنومان کو دلت، پھر مسلم قرار دئے جانے کے بعد یوگی کے اسپورٹس وزیر نے انہیں اب کھلاڑی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ہنومان کسی ذات و مذہب کے نہیں،بلکہ وہ محض ایک کھلاڑی تھے۔ ہنومان کی ذات و مذہب پر یوگی کے بیان کے بعد جو بیان بازی کا سلسلہ شروع ہوا وہ ابھی تک ختم نہیں ہوا ہے اور تازہ بیان یوگی حکومت میں کابینہ وزیر اور سابق کرکٹر چیتن چوہان نے دیا ہے۔
ہفتہ کے روز اپنے آبائی علاقہ امروہہ پہنچے چیتن چوہان نے کہا، ’’ہنومان جی کھلاڑی تھے، وہ کشتی لڑتے تھے، جتنے بھی پہلوان ہیں وہ ان کی پوجا کرتے ہیں، میں ان کو وہی مانتا ہوں۔ وہ ہمارے بھگوان ہیں، بھگوان کی کوئی ذات نہیں ہوتی، میں انہیں ذات پات میں نہیں باٹنا چاہتا۔‘‘
چیتن چوہان نے مزید کہا، "ہنومان جی دیوتا تھے، بھگوان تھے، میں انہیں عظیم انسان مانتا ہوں۔ کھلاڑی طاقت کی پوجا کرتے ہیں، کیونکہ کھلاڑیوں کو طاقت اور توانائی کی اشد ضرورت ہوتی ہے، ہنومان جی طاقت کی ایک مثال تھے، جس طرح سادھو سنت اور فقیروں کی کوئی ذات نہیں ہوتی، اسی طرح ہنومان جی کی بھی کوئی ذات نہیں ہے‘‘۔
چیتن چوہان سے پہلے یوگی کابینہ کے ایک اور وزیر چودھری لکشمی نارائن نے کہا تھا، ’’مجھے لگتا ہے کہ ہنومان جی جاٹ تھے، کیونکہ ان کا مزاج اس کمیونٹی سے ملتا ہے۔ جو دوسروں کی مدد کرنے کے لئے کود پڑے، وہ جاٹ ہی ہو سکتا ہے‘‘۔
بی جے پی کے ایم ایل سی اور ایک مسلمان رہنما بقل نواب نے ہنومان کو مسلمان بتایا تھا، ان کا دعوی ہے کہ ہنومان مسلمان تھے کیونکہ مسلمانوں کے نام ہنومان نام سے ملتے جلتے ہیں اور مسلمان اپنے بچوں کے نام سلمان، ذیشان، کامران وغیرہ رکھتے ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل اُترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ نے ہنومان کو دلت قرار دیا تھا۔